18-03-2026, 12:13 PM
کیا اب ایف بی آر من مانی نہیں کر سکے گا؟
یہ مقدمہ دراصل ٹیکس قانون کی تشریح اور اطلاق سے متعلق ایک اہم قانونی تنازع تھا، جس میں کمشنر ان لینڈ ریونیو اور میاں لیاقت علی، پروپرائٹر لیاقت ہسپتال لاہور آمنے سامنے تھے۔ معاملہ اس وقت پیدا ہوا جب ٹیکس دہندہ نے ٹیکس سال 2016 سے 2018 تک اپنی ریٹرنز جمع کروائیں۔ بعد ازاں ٹیکس حکام کو ایک شکایت موصول ہوئی جس میں یہ الزام لگایا گیا کہ ٹیکس دہندہ نے اپنے کاروبار سے حاصل ہونے والی کچھ سیلز کو ظاہر نہیں کیا اور یوں اپنی قابلِ ٹیکس آمدنی کو کم ظاہر کیا۔ اس اطلاع کی بنیاد پر متعلقہ ان لینڈ ریونیو افسر نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 122(5) کے تحت کارروائی شروع کی، جو اس صورت میں اسیسمنٹ میں ترمیم کی اجازت دیتی ہے جب ٹیکس حکام کو یہ معلوم ہو جائے کہ کوئی آمدنی ٹیکس سے بچ گئی ہے۔
نوٹس کے جواب میں ٹیکس دہندہ نے مؤقف اختیار کیا کہ اگرچہ کچھ سیلز ظاہر نہیں ہوئیں، تاہم کسی بھی کاروباری سرگرمی میں سیلز بذاتِ خود آمدنی نہیں ہوتیں بلکہ ان سے وابستہ اخراجات اور لاگت کو منہا کرنے کے بعد جو رقم بچتی ہے وہی حقیقی آمدنی یا منافع تصور ہوتی ہے۔ اس لیے اگر کوئی پوشیدہ سیلز موجود بھی ہوں تو ٹیکس کا تعین صرف اس نیٹ انکم پر کیا جانا چاہیے جو اخراجات اور لاگت نکالنے کے بعد باقی رہتی ہے۔
تاہم ٹیکس افسر نے کارروائی کا رخ تبدیل کرتے ہوئے معاملہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 111(1)(d) کے تحت لے گیا۔ اس دفعہ کے تحت اگر کسی شخص کی آمدنی یا سیلز چھپائی گئی ہوں اور وہ اس کی تسلی بخش وضاحت فراہم نہ کر سکے تو اس رقم کو اس کی قابلِ ٹیکس آمدنی میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ ٹیکس حکام نے اس دفعہ کی تشریح کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ سیلز چھپائی گئی ہیں اس لیے پوری سیلز کو ہی آمدنی تصور کر کے اس پر ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے، اور اس میں کسی قسم کی لاگت یا اخراجات کی کٹوتی قابلِ قبول نہیں ہوگی۔
اس فیصلے کے خلاف ٹیکس دہندہ نے پہلے کمشنر اپیلز اور پھر ایپیلیٹ ٹریبونل ان لینڈ ریونیو سے رجوع کیا۔ ٹریبونل نے قرار دیا کہ ٹیکس حکام کی یہ تشریح درست نہیں، کیونکہ کاروباری لین دین میں سیلز اور آمدنی ایک ہی چیز نہیں ہوتیں۔ ٹریبونل کے مطابق سیلز کے ساتھ لازماً لاگت اور اخراجات منسلک ہوتے ہیں، اس لیے پورے سیلز کو آمدنی قرار دے کر ٹیکس عائد کرنا قانون اور ٹیکس کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ ہائی کورٹ نے بھی ٹریبونل کے اس مؤقف کی توثیق کی۔
بالآخر یہ معاملہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے سامنے آیا، جہاں عدالتِ عظمیٰ نے قانون کی جامع تشریح کرتے ہوئے یہ اصول واضح کیا کہ انکم ٹیکس کا بنیادی تصور آمدنی (Income) پر مبنی ہے، نہ کہ محض وصولیوں یا سیلز (Gross Receipts) پر۔ عدالت نے قرار دیا کہ دفعہ 111(1)(d) کی تشریح اس انداز میں نہیں کی جا سکتی کہ ہر صورت میں پوری سیلز کو ہی قابلِ ٹیکس آمدنی سمجھ لیا جائے۔ اگر سیلز یا پیداوار کو بنیاد بنایا بھی جائے تو اس کے ساتھ وابستہ اخراجات اور لاگت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے، کیونکہ حقیقی آمدنی وہی ہوتی ہے جو اخراجات منہا کرنے کے بعد باقی رہتی ہے۔
سپریم کورٹ نے مزید یہ بھی واضح کیا کہ اگر ٹیکس حکام کو یہ اختیار دے دیا جائے کہ وہ بیک وقت مختلف قانونی دفعات استعمال کرتے ہوئے کبھی نیٹ آمدنی اور کبھی مجموعی وصولیوں کو بنیاد بنا کر ٹیکس عائد کریں، تو یہ اختیار غیر محدود صوابدید (Unfettered Discretion) میں تبدیل ہو جائے گا جو قانون کے اصولِ مساوات اور منصفانہ ٹیکس نظام کے منافی ہے۔ اسی بنیاد پر عدالت نے قرار دیا کہ ٹیکس حکام کی جانب سے پوری سیلز کو آمدنی قرار دینا درست قانونی مؤقف نہیں تھا۔
چنانچہ سپریم کورٹ نے ٹیکس حکام کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹریبونل اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کو برقرار رکھا اور یہ اصول قائم کیا کہ دفعہ 111(1)(d) کے اطلاق کے باوجود ٹیکس کا تعین حقیقی آمدنی یعنی نیٹ انکم کی بنیاد پر ہی کیا جائے گا، نہ کہ مجموعی سیلز یا گراس رسیٹس کی بنیاد پر۔
Hamid Ullah Khan
CEO
Unified Group
03004020902
یہ مقدمہ دراصل ٹیکس قانون کی تشریح اور اطلاق سے متعلق ایک اہم قانونی تنازع تھا، جس میں کمشنر ان لینڈ ریونیو اور میاں لیاقت علی، پروپرائٹر لیاقت ہسپتال لاہور آمنے سامنے تھے۔ معاملہ اس وقت پیدا ہوا جب ٹیکس دہندہ نے ٹیکس سال 2016 سے 2018 تک اپنی ریٹرنز جمع کروائیں۔ بعد ازاں ٹیکس حکام کو ایک شکایت موصول ہوئی جس میں یہ الزام لگایا گیا کہ ٹیکس دہندہ نے اپنے کاروبار سے حاصل ہونے والی کچھ سیلز کو ظاہر نہیں کیا اور یوں اپنی قابلِ ٹیکس آمدنی کو کم ظاہر کیا۔ اس اطلاع کی بنیاد پر متعلقہ ان لینڈ ریونیو افسر نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 122(5) کے تحت کارروائی شروع کی، جو اس صورت میں اسیسمنٹ میں ترمیم کی اجازت دیتی ہے جب ٹیکس حکام کو یہ معلوم ہو جائے کہ کوئی آمدنی ٹیکس سے بچ گئی ہے۔
نوٹس کے جواب میں ٹیکس دہندہ نے مؤقف اختیار کیا کہ اگرچہ کچھ سیلز ظاہر نہیں ہوئیں، تاہم کسی بھی کاروباری سرگرمی میں سیلز بذاتِ خود آمدنی نہیں ہوتیں بلکہ ان سے وابستہ اخراجات اور لاگت کو منہا کرنے کے بعد جو رقم بچتی ہے وہی حقیقی آمدنی یا منافع تصور ہوتی ہے۔ اس لیے اگر کوئی پوشیدہ سیلز موجود بھی ہوں تو ٹیکس کا تعین صرف اس نیٹ انکم پر کیا جانا چاہیے جو اخراجات اور لاگت نکالنے کے بعد باقی رہتی ہے۔
تاہم ٹیکس افسر نے کارروائی کا رخ تبدیل کرتے ہوئے معاملہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 111(1)(d) کے تحت لے گیا۔ اس دفعہ کے تحت اگر کسی شخص کی آمدنی یا سیلز چھپائی گئی ہوں اور وہ اس کی تسلی بخش وضاحت فراہم نہ کر سکے تو اس رقم کو اس کی قابلِ ٹیکس آمدنی میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ ٹیکس حکام نے اس دفعہ کی تشریح کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ سیلز چھپائی گئی ہیں اس لیے پوری سیلز کو ہی آمدنی تصور کر کے اس پر ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے، اور اس میں کسی قسم کی لاگت یا اخراجات کی کٹوتی قابلِ قبول نہیں ہوگی۔
اس فیصلے کے خلاف ٹیکس دہندہ نے پہلے کمشنر اپیلز اور پھر ایپیلیٹ ٹریبونل ان لینڈ ریونیو سے رجوع کیا۔ ٹریبونل نے قرار دیا کہ ٹیکس حکام کی یہ تشریح درست نہیں، کیونکہ کاروباری لین دین میں سیلز اور آمدنی ایک ہی چیز نہیں ہوتیں۔ ٹریبونل کے مطابق سیلز کے ساتھ لازماً لاگت اور اخراجات منسلک ہوتے ہیں، اس لیے پورے سیلز کو آمدنی قرار دے کر ٹیکس عائد کرنا قانون اور ٹیکس کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ ہائی کورٹ نے بھی ٹریبونل کے اس مؤقف کی توثیق کی۔
بالآخر یہ معاملہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے سامنے آیا، جہاں عدالتِ عظمیٰ نے قانون کی جامع تشریح کرتے ہوئے یہ اصول واضح کیا کہ انکم ٹیکس کا بنیادی تصور آمدنی (Income) پر مبنی ہے، نہ کہ محض وصولیوں یا سیلز (Gross Receipts) پر۔ عدالت نے قرار دیا کہ دفعہ 111(1)(d) کی تشریح اس انداز میں نہیں کی جا سکتی کہ ہر صورت میں پوری سیلز کو ہی قابلِ ٹیکس آمدنی سمجھ لیا جائے۔ اگر سیلز یا پیداوار کو بنیاد بنایا بھی جائے تو اس کے ساتھ وابستہ اخراجات اور لاگت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے، کیونکہ حقیقی آمدنی وہی ہوتی ہے جو اخراجات منہا کرنے کے بعد باقی رہتی ہے۔
سپریم کورٹ نے مزید یہ بھی واضح کیا کہ اگر ٹیکس حکام کو یہ اختیار دے دیا جائے کہ وہ بیک وقت مختلف قانونی دفعات استعمال کرتے ہوئے کبھی نیٹ آمدنی اور کبھی مجموعی وصولیوں کو بنیاد بنا کر ٹیکس عائد کریں، تو یہ اختیار غیر محدود صوابدید (Unfettered Discretion) میں تبدیل ہو جائے گا جو قانون کے اصولِ مساوات اور منصفانہ ٹیکس نظام کے منافی ہے۔ اسی بنیاد پر عدالت نے قرار دیا کہ ٹیکس حکام کی جانب سے پوری سیلز کو آمدنی قرار دینا درست قانونی مؤقف نہیں تھا۔
چنانچہ سپریم کورٹ نے ٹیکس حکام کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹریبونل اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کو برقرار رکھا اور یہ اصول قائم کیا کہ دفعہ 111(1)(d) کے اطلاق کے باوجود ٹیکس کا تعین حقیقی آمدنی یعنی نیٹ انکم کی بنیاد پر ہی کیا جائے گا، نہ کہ مجموعی سیلز یا گراس رسیٹس کی بنیاد پر۔
Hamid Ullah Khan
CEO
Unified Group
03004020902

